یہ ایک چالاک اور بہادر چوہے کی دلچسپ کہانی ہے جو اپنی عقل مندی سے جنگل کے بڑے شکاریوں کو مات دیتا ہے۔ جب اس کا سامنا ایک حقیقی جن سے ہوتا ہے، تو وہ اپنی جان بچانے کے لیے ایک ایسی ترکیب لڑاتا ہے جو سب کو حیران کر دیتی ہے۔
ایک گھنے اور ہرے بھرے جنگل میں ایک ننھا سا چوہا رہتا تھا۔ وہ چوہا بہت بہادر اور عقل مند تھا اور روزانہ نئے راستوں پر سیر کے لیے نکلتا تھا۔ جنگل کے درخت بہت اونچے تھے اور زمین پر چھوٹی چھوٹی گھاس اگی ہوئی تھی۔
ایک دن جب وہ جنگل میں گھوم رہا تھا، اسے ایک بھوکی لومڑی ملی۔ لومڑی نے چوہے کو دیکھ کر اپنی زبان ہونٹوں پر پھیری اور سوچا کہ یہ چھوٹا چوہا تو میرا بہت مزیدار ناشتہ بن سکتا ہے۔ اس نے چوہے کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔
چوہے نے لومڑی کو ڈرانے کے لیے ایک فرضی جن کی کہانی سنائی۔ اس نے کہا کہ وہ ایک بہت بڑے جن سے ملنے جا رہا ہے جس کے دانت بہت نوکیلے اور پنجے بہت تیز ہیں۔ چوہے نے بتایا کہ اس جن کو لومڑی کا گوشت بہت پسند ہے، جس سے لومڑی خوفزدہ ہو کر بھاگ گئی۔
تھوڑی دور جانے کے بعد ایک بوڑھے الو نے چوہے کو دیکھا اور اسے اپنے گھونسلے میں آنے کو کہا۔ چوہے نے الو کو بھی اسی خوفناک جن کے بارے میں بتایا جس کی آنکھیں آگ کی طرح سرخ تھیں اور آواز بہت گرجدار تھی۔
چوہے نے الو کو بتایا کہ اس جن کے پورے جسم پر زہریلے کانٹے ہیں اور وہ الو کا سوپ بہت شوق سے پیتا ہے۔ یہ سن کر الو کے پر ڈر سے کانپنے لگے اور وہ فوراً وہاں سے اڑ کر دور چلا گیا۔ چوہا اپنی عقل مندی پر مسکرانے لگا۔
پھر چوہے کا سامنا ایک لمبی جھاڑی میں چھپے ہوئے ایک بڑے سانپ سے ہوا۔ سانپ نے چوہے کو کھانے کا ارادہ کیا، لیکن چوہے نے اسے بتایا کہ جن ابھی یہاں آنے والا ہے اور اس کا سب سے پسندیدہ کھانا بھنا ہوا سانپ ہے۔
سانپ یہ سن کر تیزی سے اپنی بل میں گھس گیا۔ چوہا اب بہت خوش تھا اور اچھلتا ہوا راستے پر جا رہا تھا۔ وہ بلند آواز میں کہنے لگا کہ یہ سب کتنے بیوقوف ہیں، بھلا حقیقت میں بھی کوئی ایسا جن ہوتا ہے؟
اچانک چوہے کے سامنے ایک اصل میں بہت بڑا، ڈراؤنا اور عجیب و غریب جن آ کھڑا ہوا۔ چوہا اسے دیکھ کر ایک لمحے کے لیے دنگ رہ گیا کیونکہ اس جن کی شکل بالکل ویسی ہی تھی جیسا اس نے اپنی کہانیوں میں بتایا تھا۔ چوہا بہت ڈر گیا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔
چوہے نے جن سے کہا کہ تم مجھ سے مت ٹکراؤ کیونکہ میں اس جنگل کا سب سے خطرناک جانور ہوں۔ اس نے جن کو اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ جب وہ دونوں ساتھ چلے تو لومڑی، الو اور سانپ جن کو دیکھ کر اپنی جان بچا کر بھاگنے لگے۔
جن نے سمجھا کہ تمام جانور اس چھوٹے سے چوہے سے ڈر کر بھاگ رہے ہیں، وہ خود بھی بہت زیادہ خوفزدہ ہو گیا اور الٹے پاؤں جنگل سے بھاگ گیا۔ اب ننھا چوہا بالکل اکیلا تھا، اس نے سکون سے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنا پسندیدہ اخروٹ کھایا۔
Prompt de geração(Faça login para ver o prompt completo)
there is legit no literature for grade 3 urdu reading.. u know baout books like grafalo and moneky puzzle. i would like u to plz traslate thee for me .. and make a printable version of them for a 3rd grader to read.. all urdu font.. printable means it should be right aligned.. as urdu is written from right to left.. should have a few images.. all black and white plz.. so write these 2 books.. lots of pictures and alot of text.. most easily read urdu font.. grade 3.. put atleast 10 pictures and most easiet urdu font